ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات میں جیت کے بعد نگاہیں اب سی ایم کے چہرے پر

گجرات میں جیت کے بعد نگاہیں اب سی ایم کے چہرے پر

Tue, 19 Dec 2017 00:33:53    S.O. News Service

نئی دہلی،18؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گجرات انتخابات میں بی جے پی کی جیت کے بعد لوگوں کی نگاہیں اب اس بات پر ٹکی ہیں کہ ریاست کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔ بے چینی اس بات کی ہے کہ سی ایم کی کمان پھر وجے روپانی سنبھالیں گے یا پھر کسی اور کوموقع ملے گا۔ایک طرح سے یہ انتخابات روپانی حکومت کی کارکردگی کا امتحان تھا۔ سال 2012 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 115 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی اوسط کارکردگی کے بعد روپانی کی کرسی پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔سیٹوں کی تعداد میں آئی یہ کمی وجے روپانی کے لئے مشکل کا سبب بن سکتی ہے اور ان کی جگہ وزیر اعلی عہدے پر نیا چہرہ لانے کا مطالبہ زور پکڑ سکتا ہے۔ویسے بھی نریندر مودی کے وزیر اعظم کے طور پر مرکز میں جانے کے بعد راجیل میں بی جے پی کی مقبولیت کا گراف گرا ہے۔مودی کے مرکز میں جانے کے بعد آنندی بین پٹیل کو وزیر اعلی بنایا گیا تھا۔آنندی بین کی مدت کے دوران ہی پاٹیدار تحریک نے زور پکڑا اور اس تحریک کو ابتدائی دور میں کنٹرول نہ کرپانے کو لے کر وزیر اعلی کی فعالیت پر سوال اٹھے۔ایسے میں عمر کے 70+ کے فارمولے کی بنیاد پر آنندی بین کاالوداعی کا راستہ تیار کرکے روپانی کے لئے راہ بنائی گئی تھی، لیکن وہ بھی توقعات پر کھرے نہیں اترے۔پاٹیدار وں کی ناراضگی، دلت سماج پر زیادتی کے مبینہ واقعات اور اینٹی انکم بیسی فیکٹر نے بی جے پی کے لئے اس بار الیکشن کو مشکل بنا دیا تھا۔وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی سربراہ امت شاہ کی آبائی ریاست ہونے کی وجہ سے یہ انتخابات پارٹی کے لئے انتہائی اہم تھا۔فتح کرنے کے لئے پارٹی کو پوری طاقت جھوکنی پڑی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے جیت یقینی بنانے کے لئے طوفانی جلسے کئے۔یہی نہیں مرکزی کابینہ کے قدآور وزیر بھی اس دوران گجرات میں موجود رہے۔


Share: